سب کے ساتھ روزہ افطار کیا
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تھا۔ مسلمان اپنے رب عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے آئے ہوئے مہمان مہینے کی خوب برکتیں لوٹ رہے تھے۔ ایک آدمی حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی خانقاہ میں آیا اور معجزات و کرامات پر اعتراض اور انکار کرنے لگا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے سمجھایا مگر وہ اپنی ضد پر ڈٹا رہا۔ معجزات و کرامات پر دلائل پیش کرنے اور میٹھے بول سے سمجھانے کے باوجود جب وہ مسلسل انکار ہی کرتا رہا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو جلال آگیا اور فرمایا: آج تم اور تمہارے مصاحب ہمارے ساتھ روزہ افطار کریں گے۔ اس کے بعد ایک خادم کو حکم فرمایا کہ شہر بھر میں اعلان کردو کہ ہر کوئی اپنے گھر پر رہے آج ہم ان کے ساتھ افطار کریں گے۔ وہ شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی اس بات پر حیران وششدر بیٹھا تھا۔ جب افطار کا وقت ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کے ساتھ افطاری فرمائی اور نماز مغرب کے لیے تشریف لے گئے۔ بعد میں جب اس آدمی نے تحقیق کروائی توپتا چلا کہ ہر کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ حضرت نے ہمارے ساتھ افطاری فرمائی ہے۔(1)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … احوال و آثار حضرت بہاءالدین زکریاملتانی، ص۱۶۶، اللّٰہ کے ولی ،ص۴۶۰