مىں تقسىم کىا گىا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے خدام سے فرماىا کرتے: گھر مىں جتناروپىہ اور گندم، چاول ہوں شام سے پہلے پہلے ختم کردىا کرو، اىسا نہ ہو کہ مال و اَسباب ہمارے گھر مىں پڑا رہے اور غرىب بھوکے مرتے رہىں، اگر اىک شخص بھى مىرے علاقے ىا اس کے مضافات مىں بھوکا رہا تو مجھے خدا کےحضورجواب دینا پڑے گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ شام کو اپنا خزانہ خالى کرواتے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کى رحمت سے صبح تک پھر خزانہ بھرا ہوتا۔لنگر اسى انداز سے پکتا ، روپیہ، پیسہ اور کپڑا اسی سُرعَت (تیزی)سے تقسىم ہوتا۔لوگ دور دور سے شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی بہتے دریا جیسی سخاوت سے حصہ پانے کے لیے آتے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا معمول تھا کہ لوگوں کو پىٹ بھر کر اور مختلف اَقسام کے کھانے کھلاتے مگر خود دن رات میں صرف اىک مرتبہ کھانا کھاتے ۔ کبھی جسم پر مکھی نہ بیٹھی
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء سید محمدمحبوب الٰہی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :میں نے ایک بزرگ سے سنا ہے کہ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاء الدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے جسم مبارک اور لباس پر کسی شخص نے عمر بھر مکھی کو بیٹھتے نہیں دیکھا ۔ (1)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … احوال و آثار حضرت بہاءالدین زکریاملتانی، ص۹۷،اللّٰہ کے ولی ،ص۴۲۶