سراندیپ تشریف لے گئے اور سال بھر ایک پہاڑ پر قیام فرمایا۔ ایک دن ایک بوڑھا شخص لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے پاس سے گزرا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بفضلِ الٰہی کشف سے جان لیا کہ وہ ایک غریب اور عیال دار شخص ہے۔ اس کے گھر میں جوان بیٹیاں تھیں جن کی رخصتی کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ حضرت شیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی نظر کیمیا اثر کا پڑنا تھاکہ وہ لکڑیوں کا گٹھا سونا بن گیا۔(1)
کوزے میں دریا اور سخاوت بے بہا
اىک مرتبہ درىامىں زبردست طغىانى آنے کے باعث سیلاب آگیا جس کی وجہ سے کئی گاؤں تباہ ہوگئے۔ لوگوں کے گھرا ور تمام اَثاثہ جات بہہ گئے۔ مصیبت اورغم کے مارے لوگ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی خدمت مىں فریاد لے کر حاضر ہوئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ رىز ہوگئے اور دیر تک دعا کرتے رہے۔ طویل دعا کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنا لوٹا لوگوں کو دىا اور فرماىا :اسے لے جا کر درىا مىں ڈال دو ، درىا کا سارا پانى ىہ اپنے اندر سمىٹ لے گا۔ لوگوں نے ایسا ہی کیاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے واقعى” کوزے مىں درىا“ کے مطابق سارا پانی لوٹے میں آگیا۔ اس کے بعد سىلاب زدگان اور بے گھر لوگوں کى آباد کارى کے لىے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دىئے، لاکھوں روپے اور منوں اناج متأثرہ خاندانوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … محفل اولیاء، ص۲۴۹ملخصاً، تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریا ،ص ١٩۵ملخصاً