محنت
ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:محنت کو اپنا شعار بناؤ،یہ دنیا دَارُالعمل ہے۔ جُہدِ مُسلسل(یعنی مسلسل کوشش) اور عملِ پیہم(یعنی لگاتار محنت) سے خوش حالی کی راہیں کھلتی ہیں۔ جو شخص اپنے نفس کا مُحاسبہ کرتا ہے وہ صرف خدا سے ڈرتا ہے۔ دانا اور عقلمندوہی شخص ہے جو پیش آنے والے سفر یعنی موت کے لیے تیاری کرے اور اپنے ساتھ کچھ زادِ راہ لے۔(1)
آپ کی چند کرامات :
حضرت بابا فرىد الدىن مسعود گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہىں: اىک مرتبہ ىہ دُعا گو اور شىخ الاسلام بہاء الدىن زکرىا مشائخِ بغداد کے حلقے مىں بىٹھے تھے، اولیاءُ اللہ کى کرامات کا ذکر ہورہا تھاکہ اچانک اىک صاحب بولے اولیاءُ اللہ مىں ىہ طاقت ہوتى ہے کہ جب چاہىں کسى مکان کو مُرَصَّع (موتی و جواہرات سے جَڑا ہوا)اور مُذَہَّبْ(مُ،ذَہْ،ہَبْ ۔یعنی سونا چڑھا ہو ا) بنادىں، اگر اس مجلس مىں کوئى صاحب ِ کمال موجود ہے تو اس مسجد پر توجہ کرے، شىخ الاسلام بہا ء الدىن زکرىا نے مُراقبہ مىں سرجھکالىا،تھوڑى دىر کے بعد سر اٹھا کر فرماىا: ذرا مسجد پر نظر کىجئے۔ لوگوں نے بىک وقت نظر اٹھا کر مسجد کو دىکھا، اس کى تمام اىنٹىں اور لکڑىاں سونے کى نظر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … نفحات سہروردیہ، ص۲۴۵ملخصاً