نماز سے محبت
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :ذوقِ عبادت اس حد تک ہونا چاہیے کہ کسی صورت بھی نمازِ باجماعت کی فضیلت کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ جب اعمال و عبادات پر مُداوَمَت ہوجائے گی تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اخلاقِ حسنہ کی توفیق بھی میسر ہو جائے گی۔ اخلاق حسنہ کی پیروی ہی سے تزکیۂ نفس ممکن ہے۔ (1)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے تھے: مجھے جو کچھ بھی حاصل ہوا نماز سے حاصل ہوا ۔میں نے ہر وہ نماز پڑھی ہے جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ادا فرمائی۔ (2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے !شیخ بہاء الدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکونماز سے کیسا شَغَف تھا۔یاد رکھئے !دینِ اِسْلام میں جو اَہمیَّت نَماز کوحاصِل ہے وہ کسی اور عِبادَت کو حاصِل نہیں۔نَماز اَرْکانِ اِسْلام میں سے ایک اَہَمّ تَرین رُکْن ہے۔قُرآن وحَدِیْث میں نَماز کی فرضیت و اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، چُنانچہ پارہ۵ ، سُوۡرَۃُ النِّسَاء کی آیت نمبر ۱۰۳ میں اِرْشاد ہوتاہے :
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾
ترجمہ کنزالایمان :بے شک نماز ایمان والوں پر فرض ہے، وقت باندھا ہوا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ، ص۱۴۸
2 … فوائد الفواد ،پانچویں مجلس ،ص۶۳