ہے ۔ (1)ہمیں ہمیشہ حلال روزی کمانا، کھانا اور کِھلانا چاہیےاور لقمۂ حلال کی تو کیا ہی بات ہے چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا اِمام محمد غَزَالیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قَول نَقل کرتے ہیں:” مسلمان جب حَلال کھانے کا پہلا لُقْمہ کھاتا ہے ، اُس کے پچھلے گُناہ مُعاف کردئیے جاتے ہیں۔اور جو شخص طَلَبِ حلال کیلئے رُسوائی کے مقام پر جاتا ہے اُس کے گناہ دَرَخت کے پتّوں کی طرح جَھڑتے ہیں۔“ (2)
لقمۂ حرام کی نحوست:
حضرت سیّدناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہےحضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :جس نے دنیا میں حرام طریقے سے مال کمایا اور اسے ناحق جگہ خرچ کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ذلت و حقارت کے گھر (یعنی جہنم) میں داخل کردے گا ۔ (3)
مُکاشَفَۃُ الْقُلوب میں ہے:آدَمی کے پیٹ میں جب لقمۂ حرام پڑا تو زمین و آسمان کا ہر فِرِشتہ اُس پر لعنت کرےگا جب تک اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں(یعنی پیٹ میں حرام لقمے کی موجودگی میں)موت آ گئی تو داخِل جہنَّم ہو گا۔ (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الرضاع، باب النفقۃ، ذکر کتبۃ اللہ جلّ وعلا الصدقۃ للمنفق۔۔ الخ، ۴/۲۱۸، حدیث: ۴۲۲۲
2 … احیاء العلوم،کتاب الحلال و الحرام،الباب الاول فی فضیلۃ الحلال۔۔۔الخ،۲/۱۱۶
3 … شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان، ۴/۳۹۶، حدیث: ۵۵۲۷ ملتقطا
4 … مکاشَفَۃُ القُلوب،الباب الاول فی بیان الخوف، ص ۱۰