Brailvi Books

فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی
52 - 71
جس میں یہ نہیں اسے زاہد کہلانے کا حق نہیں:
٭…دنیا کو پہچاننا اور اس سے مایوس ہونا
٭…مولا کی خدمت کرنا اور اس کے حقوق کی نگہداشت کرنا
٭…آخرت کی طلب اور اس کے حصول میں لگاتار کوشاں رہنا ۔(1)
رزق ِ حلال کى تاکىد 
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مرىدوں کو اکثر ىہ نصىحت فرماتے تھے، اپنے بىوى بچوں کو رزقِ حلال کھلاؤ، اگر ذرا برابر بھى ناجائز اور حرام کمائى کسى نے اپنى زوجہ و اولاد کو کھلائى تو ان کے اندر بھى حرام رزق کى تاثىر پىدا ہوجائے گى۔ آدمى حرام کارى کے کام وَلَدُالحرام ہونے کى وجہ سے ہى نہىں کرتابلکہ بیشتر حرام کاری رزق ِ حرام کے کھانے سے جنم لیتی ہے اس لیے رزقِ طیّب کا حصول اور تلاش جاری رکھنی چاہئے۔ 
لقمۂ حلال میں برکت ہے:
حضرت سیدنا ابو سعیدخُدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے:رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص نے حلال کمایاپھر اسے خود کھایا یا اس کمائی سے لباس پہنا اور اپنے علاوہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی دیگر مخلو ق (جیسے اپنے اہل و عیال اور دیگر لوگوں ) کو کھلا یا اور پہنا یا تو اس کا یہ عمل اس کے لئے برکت و پاکیزگی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۱۴۲