تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ طیبہ کا ایک حسین باب بزرگوں کے ادب و احترام کی تعلیم دینااور بچوں سے پیار کرنا بھی ہے چنانچہ
سرکارِ مدینہ، فیضِ گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’جو نوجوان کسی بزرگ کے سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے کسی کو مقرر کردیتا ہے جو اس نوجوان کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے گا۔‘‘(1)
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اے اَنَس ! بڑوں کا ادب و احترام اور تعظیم وتوقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو ، تم جنت میں میری رَفاقت پالو گے۔‘‘(2)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
علم و حکمت بھرے ملفوظات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے ملفوظات ان کی مَدَنی سوچ کے ترجمان ہوتے ہیں جن سے سُننے والوں کو شریعت وطریقت کے آداب معلوم ہوتے ہیں۔نیکیوں کی رغبت بڑھتی اور گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔حضرت شیخ غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے علم و حکمت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … ترمذی، کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی اجلال الکبیر، ۳/۴۱۱،حدیث:۲۰۲۹
2 … شعب الایمان،الخامس والسبعون من شعب الایمان ، ۷/۴۵۸، حدیث:۱۰۹۸۱