Brailvi Books

فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی
49 - 71
چاہئے کہ معلوم نہیں کس نیکی پر وہ راضی ہو جائے گااورہر بدی سے بچنا چاہئے کیونکہ  معلوم نہیں کہ وہ کس بدی پر ناراض  ہو جائےخواہ وہ بَدی کیسی ہی صغیر (چھوٹی ) ہومَثَلاً کسی کی لکڑی کا خِلال کرنا ایک معمولی سی بات ہے یا کسی ہمسایہ کی مٹّی سے اس کی اجازت کے بِغیر ہاتھ دھونا گویا ایک چھوٹی سی بات ہے مگر چُونکہ ہمیں معلوم نہیں۔ اس لئے ممکِن ہے کہ اس برائی میں حق تعالیٰ کی ناراضگی مَخفی ہو تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی بچنا چاہئے۔ (1)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 ملتان کے روحانی حاکم
حضرت خواجہ قُطبُ الدىن بختىار کاکى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاقِیجب مدینۃالاولیاء ملتان شریف  تشریف لائے توحاکمِ وقت ناصرالدین قباچہ  نے خواجہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مدینۃ الاولیاءملتان مىں قىام کى درخواست پیش کی تو حضرت خواجہ قطب الدىن بختىار کاکىعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاقِی نےفرماىا:(مدینۃ الاولیاء) ملتان برادرم بہاءالدین کی تحویل میں دیا جاچکا ہے ہم یہاں کیسے رہ سکتے ہیں۔(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے پیارے آقا ،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … اَخلاقُ الصالحین، ص ٦٠
2 … تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص ۶۴