الدىن سے کىا سلوک ہوگا؟ دوسرا ىہ کہ روزِ مىثاق جب تمام اَرواح خدا وند ِکرىم کے حضور پىش ہوئىں ، ارشاد ہوا:”اَلَستُ بِرَبِّکُم؟یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں۔“جواب عرض ہوا:”بَلٰى یعنی کیوں نہیں ۔“حکم ہوا: مىں تمہارا معبود ہوں،مجھے سجدہ کرو۔پہلے حکم پر کئى سجدے مىں چلے گئے اور کئى کھڑے رہے۔دوسری مرتبہ میں پہلے لوگوں کے ساتھ کئى اور بھى شرىک ہوگئے اور ىہ سب مخلصىن کہلائے۔ اول مسعود آخر محمود ، لىکن جنہوں نے سجدہ نہىں کىا تھا وہ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ( یعنی دنیااور آخرت دونوں کاگھاٹا ہے)کے مصداق بنادىئے گئے ۔مجھے معلوم نہیں کہ میں کس گروہ مىں تھا؟ حضرت شیخ رکن الدین عالم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مادر زاد ولى تھے اور قُطبىتِ عُظمٰى کے درجہ پر فائز تھے۔ آپ نے عرض کى :دادا جان آپ ہر دو امور کے متعلق تسلى رکھئے کىونکہ حضور کى روح مخلصىن کے اس گروہ مىں سے ہے جس نے دونوں مرتبہ خلوصِ دل سے سجدہ کىا ۔ مجھے بخوبى ىاد ہے کہ آپ کى روح اَغواث کى صف مىں تھى اور مَىں اَقطاب کى صف مىں تھا۔میں نے آپ کى روح کو دىکھا کہ اَغواث کى صف مىں کھڑى رَبُّ العِزَّت عَزَّ وَجَلَّ کى حمد و ثناکررہى تھى۔
حضرت شاہ رکن عالم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بىان سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کچھ تسلى ہوئى اور اسى وقت جبىنِ نىاز ادائے شکر کے لىے خاک ِ عبودىت پر رکھ
دى اور پھر باہر تشرىف لا کر مشتاقانِ جمال کو شربتِ دىدار سے شاد کام فرماىا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریا ،ص۲۲۴ملخصاً