Brailvi Books

فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی
44 - 71
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر کاخوف
اىک دفعہ حضرت شىخ الاسلام بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر اس قدر خوف چھاىا کہ اٹھ کر حجرے کا دروازہ بند کردىااور توبہ و استغفار کے لىے 
سجدے مىں گر گئے۔ اتنى گرىہ و زارى فرمائی  کہ مصلى آنسوؤں سے تر ہوگىا۔ آہ و زاری کى مسلسل درد ناک آواز آرہى تھى جس سے لوگوں کے دل پھٹے جاتے تھے۔ صاحبزادگان اور ارا دت مندوں نے دروازہ کھولنے کے لىے ہر چند التجائیں کى مگر کسى کی عرض قبول نہ ہوئی۔آخر کار حضرت کے پىارے پوتے حضرت شىخ رکن الدىن عالمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دو تىن مرتبہ زور سے پکارا:دادا جان!دروازہ کھولئے۔حضرت شىخ الاسلام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرطِ محبت سے اٹھے اور حجرہ کا دروازہ کھول د ىا۔ حضرت شىخ رکنُ الدِّىن عالمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دىکھا کہ خدا شناس آنکھىں کثرت ِ مجاہدہ سے سوج گئی ہىں اور ان سے آنسوؤں کى بجائے خون کے قطرات ٹپ ٹپ گررہے ہىں۔ عرض کى: حضور ! اس گرىہ وزارى کا سبب کىا ہے؟ فرماىا: بىٹا ! مىں نے عالم ِمکاشفہ مىں دىکھاکہ اىک شخص بہا ء الدىن جو زُہد ووَ رَع مىں صاحب ِکمال اور علم وعمل مىں ىگانہ روزگار تھا، فوت ہوگىا۔ اس کى عبادت و اطاعت کسى کام نہ آئى۔اس کے تمام اعمال اس کے منہ پر مارے گئے، اور اىمان سلب کرلىا گىا۔ ىہ حال دىکھ کر مجھ پر خوف طارى ہوا کہ خدا جانے اس فقىر بہاء