Brailvi Books

فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی
43 - 71
       شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمايا:’’جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی یا اس پرمالِ قرض کوصدقہ کردیا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔‘‘(1)
 نبیٔ مکرم،نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمايا : جس نے کسی مسلمان سے دنيوی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس سے روزِ قيامت کی مصيبتوں میں سے ایک مصیبت دور کردے گا اور جو کسی تنگدست پر آسانی کرےگا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس پر دنيا  وآخرت میں آسانيا ں فرمائے گا۔(2)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:تم کسی کی فانی مصیبت دفع کرو ،اللہ تم سے باقی مصیبت دفع فرمائےگا تم مومن کو فانی دنيوی آرام پہنچاؤ اللہ تمہيں باقی اُخروی آرام دے گا کيونکہ بدلہ احسان کا احسان ہے۔ يہ حديث بہت جامع ہے کسی مسلمان کے پاؤں سے کانٹا نکالنا بھی ضائع نہيں جاتا۔ حديث کا مطلب يہ نہيں کہ صرف قيا مت ہی ميں بدلہ ملے گا بلکہ قيا مت ميں بدلہ ضرور ملے گا اگرچہ کبھی دنيا  ميں بھی مل جائے۔ جو مقروض کو معافی يا  مہلت دے، غريب کی غربت دور کرے تو اِنْ شَآءَ اللہ  دين و دنيا  میں اس کی مشکلیں آسان ہوں گی۔ (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … مجمع الزوائد،کتاب البیوع،باب فی من فرج عن معسرالخ ،۴/۲۴۱،حدیث:۶۶۷۱
2 … مسلم،کتاب الذکر والدعاء ، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن الخ ، ص۱۴۴۷،حديث:۲۶۹۹
3 … مراٰۃ المناجيح، ۱/ ۱۸۹