رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحجرہ مبارکہ میں مصروف عبادت تھے ۔چند درویش بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔اچانک آپ اپنے مُصَلّے سے اُٹھے اور رقم کی ایک تھیلی ہاتھ میں لیے باہر نکل گئے ۔درویش بھی حیرانی کے عالَم میں آپ کے ساتھ ہو لیے، باہر آکر دیکھا کہ چند آدمی ایک غَریبُ الحال شخص کو اپنے قرض کی وصولی کے لئے تنگ کر رہے ہیں اور اس شخص کے پاس ایک کوڑی بھی نہیں تھی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قرض خواہوں کو بلا کر فرمایا : یہ تھیلی لے لو اور جس قدر اس شخص سے لینے ہیں نکال لو ۔قرض خواہ نے اپنے قرض سے کچھ روپے زیادہ لینے چاہے ۔فوراًاس کا ہاتھ خشک ہو گیا ۔چِلّا کربولا :حضور معاف فرمائیے،میں زیادہ لینے سے توبہ کرتا ہوں۔فوراً اس کا ہاتھ ٹھیک ہو گیا ۔مَفلوکُ الحال مقروض آپ کو دعائیں دینے لگا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ درویشوں کے ہمراہ خلوت خانہ واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: خداوندِ کریم عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اس شخص کی مدد کے لئے بھیجا تھا ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !اس کا مطلب پورا ہو گیا ۔ (1)
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اسے مہلت دینی چاہئے اور اگر حاجت نہ ہو تو قرض کا کچھ حصہ یا پورا ہی قرض معاف کر دینا اجرِ عظیم کا سبب ہے چنانچہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی،ص۱۲۸