مرتبہ یہ حکایت ارشاد فرمائی کہ شیخ بہاء الدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب کسی کو کوئی شے عنایت فرماتے تو اچھی اور زیادہ مقدار میں دیتے تھے ۔مُعَلِّم جو آپ کے بچوں کو پڑھاتا تھا اسےتنخواہ کےعلاوہ انعام بھی مرحمت فرماتے تھے۔ایک مرتبہ (مدینۃ الاولیا) ملتان میں سخت قحط پڑا ملتان کے حاکم ناصر الدین قَباچہ کوغلہ کی ضرورت پڑی۔ اس نے آپ سے طلب کیا تو آپ نے اس کی اِلتماس قبول فرما کر کئی مَن غلہ عطا فرمادیا۔ جب غلے کو یہاں سے لے جایا گیا تو اس میں سے ناگہاں طور پر بھاری مقدار میں نقدی رقم بھی نکل آئی ۔والیٔ شہر نے آپ کے پاس وہ رقم واپس بھیجی کہ میں نے تو صرف غلے کا سوال کیا تھا ۔جس وقت وہ روپیہ حضرت کے پاس لایا گیا آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس روپیہ کا حال معلوم تھا لیکن میں نے یہ نقد رقم اور غلہ حاکم کو دے دیا تھا ۔اس کے پاس لے جاؤکہ وہ اپنے صَرف میں لائے ۔(1)
مقروض کی امداد
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا خزانہ غُرباء اورمستحقین کے لئے ہر وقت کھُلا رہتا۔ محتاج و مساکین آتے اور آپ کے دربار سے مالامال ہو کر جاتے ۔ایک مرتبہ آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … فوائد الفوادمترجم ،تیسری مجلس،ص۳۵۰ملخصاً، تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی،ص١١٥