فرمانِ عالیشان ہے :’’حلم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی صبر وتحمل کی دولت عطا فرمائے۔
بے نىازى
حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مال و دولت کے انبار لگے ہونے کے باوجود ان خزانوں سے مستغنی تھے۔ دولت کی محبت و طلب دل میں ذرہ برابر جگہ نہ پا سکتی تھی۔ ایک روز ایک خادم سے فرماىا: جاؤ جس صندوقچہ مىں پانچ ہزار سرخ دىنار رکھے ہىں اسے اٹھا لاؤ۔ خادم حکم کی تعمیل میں روانہ ہوا مگر اس صندوقچہ کو غائب پایا ہرچند تلاشا مگر بے سود، بالآخر بارگاہِ مرشد میں عرض گزار دی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اَلْحَمْدُ لِلّٰہفرمایا۔ مگر خادم پھر بھی جاکر تلاش کرتا رہا اور بالآخر مل ہی گیا اور خوشی خوشی اٹھا کر قدموں میں لا ڈالا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہا۔ حاضرىن نے عرض کى: حضور گم ہونے پر بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور مِل جانے پر بھی، آخر اس میں کیا حکمت ہے؟حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ارشاد فرماىا کہ فقىروں کے لىے دنىا کا وجود اور عدم دونوں برابر ہىں،نہ جانے کا غم نہ آنے کی خوشی، یہ کہہ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تمام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … مجمع الزوائد،کتاب الادب، باب ماجاء فی الرفق،۸/۴۳،حدیث:۱۲۶۵۲