میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ واقعہ سے حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حسنِ اخلاق اور صبر و تحمل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس میں ہمارے لیے درس ہے کہ کوئی کتنی ہی سخت بات کہہ دے ہمیں صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہئے۔ اگر کبھی غصہ آ جائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے برداشت کرنا چاہئے۔اس عادت والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّدنیا و آخرت میں بڑے بڑے مراتب و درجات عطا فرماتا ہے چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:
وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۱۳۴﴾ۚ (پ۴،آل عمرٰن :۱۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبو ب ہیں ۔
حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک صحابی سے فرمایا:تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پسند فرماتا ہے ایک حلم اور دوسری بُردباری۔(1)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الامر بالایمان با للہ تعالی ورسولہ الخ، ص۲۹،حدیث: ۱۷