تلاوت فرمائےاور دوسرى رکعت مىں سورہ ٔاخلاص پڑھى اور نمازمکمل کر لی ۔ (1)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کامعمول تھا کہ تہجد کى نماز کے بعد قرآنِ پاک کا آغاز فرماتے اور نمازِفجر سے پہلے مکمل فرمالیتے۔ (2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کہیں شیطان یہ وسوسہ نہ دلائے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ بندہ تہجد سے لے کر فجر تک مکمل قرآنِ پاک کی تلاوت کرلے اور ایک ہی رکعت میں مکمل قرآن ختم کرلے۔ بظاہر ہمیں یہ بہت ہی مشکل اور ناممکن نظر آتاہے مگر یاد رکھئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نیک بندوں کو ایسی طاقت و قوت عطا فرمادیتا ہے کہ ان کےلیے وقت بھی رک جاتا ہے۔
مُفَسِّرِ شہیر حکیمُ الاُمَّت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت (سیّدنا)عثمانِ غنی(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے ایک رات میں ختمِ قرآن کیا ہے۔(حضرت سیّدنا)داؤد عَلَیْہِ السَّلَام چند منٹ میں زبور ختم کرلیتے تھے۔حضرت (سیّدنا)علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)گھوڑا کسنے سے پہلے ختمِ قرآن کرلیتے تھے۔مرقاۃ میں ہے: شیخ موسیٰ سدانی شیخ ابو مدین(شعیب الغوث مغزلی) کے اصحاب میں سے تھے ایک دن و رات میں ستر ہزار ختم کرلیتے تھے ایک دفعہ انہوں نے کعبہ معظمہ میں سنگ اسود چوم کر دروازہ کعبہ پر پہنچ کر ختمِ قرآن فرمالیا اور لوگوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … فواد الفوائد مترجم،پانچویں مجلس ،ص۶۲
2 …شانِ اولیاء،المعروف ہفتادِ اولیاء،ص۲۵۲ ملخصاً