باجماعت ادا فرماتے، اس کےبعدحُجرے مىں چلے جاتے اور کافى د ىر تک اَورادو اَذکار مىں مصروف رہتے، پھر نشست کا آغاز ہوتا اور اس مىں مدنی قافلوں کے ذمہ داران سے ملاقات ہوتی اور ان کى کارکردگی پیش ہوتی نیز تبلیغ میں درپیش مسائل حل کیے جاتے، طلبا بھی اپنے سوالات پیش کرتے اور ملفوظات کا خزانہ سمیٹتے، اذانِ عصر ہوتی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسجد مىں تشرىف لے جاتے اور نمازِ باجماعت ادا فرماتے، نماز کے بعد مسجد ہی میں منبر پر جلوہ افروز ہوتے ،درسِ قرآ ن اور درسِ حدیث فرماتے، سامعىن کى تعداد بعض اوقات چالىس ہزار تک پہنچ جاتى، غروبِ آفتاب سے پہلے مضافات مىں چہل قدمی کے لىے تشرىف لے جاتے، نمازِ مغرب باجماعت ادا کرنے کے بعد خَلوَت میں اَورادواَذکار مىں مصروف ہوجاتے، نمازِ عشا باجماعت ادا فرمانے کے بعدرات ڈىڑھ پہر تک عبادت مىں مصروف رہتے، اس کے بعد دولت خانہ مىں تشرىف لاتے اور کھانا تناوُل فرما کر تھوڑی دیر اِستِراحت فرماتے، بىدار ہو کر تہجد کی سعادت پاتے،نمازِ فجر تک تلاوت قرآنِ مجید سے لطف اٹھاتے۔ بعض اوقات اىک آہِ جگر دوز سنائی دیتی۔ایک رُباعی اکثر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زبان مبارک سے سننے میں آتی تھی:
درىادِ تو اے دوست چناں مدہوشم صد تىغ اگر بزنى سر نخروشم
آہے کہ بزغمِ بىادِ تو وقتِ سحر گر ہر دو جہاں د ہند واللہ نفروشم