معاملہ کرو۔ اس تجارت سے لاکھوں لاکھ آمدن ہوتی جو خالصۃً تبلیغِ دین میں خرچ ہوتی۔ زرعی اراضی سے آنے والی فصلوں اور ان کی آمدن بھی بے حساب تھی۔ (1)
آپ کی عبادت و ریاضت کا جدول
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مقولہ ہے :اَلاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ یعنی استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے ۔ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی حیات مبارکہ کے روشن گوشوں سے استقامت کی کرنیں پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہیں۔ ہر رات مکمل قرآن شرىف کی تلاوت فرماتے، تا حیات نمازِ باجماعت کا التزام رکھا، روزانہ فجر، اشراق اور چاشت کى نمازوں کے بعد دىوان خانہ مىں مسندِ ارشاد پر جلوہ فرما ہوتے، اس وقت تمام علما اور مشائخ بالالتزام حاضر ہوتے اور سلوک و معرفت کے دَقائق حَل کرواتے، خدام تجارت، زراعت اور لنگر خانہ کے حسابات بىش کرتے اور آئندہ کی ہدایات پاتے، اسی دوران شہر اور مضافات کے غربا اور مساکىن پىش ہوتے اور ولی کی بارگاہ سے درہم و دىنار، اَجناس اور خلعتوں سے دامن بھرتے، دوپہر کو دولت خانے پر تشرىف لے جا کر کھانا تناول فرماتے اور جب روزے رکھتے تو لگاتار رکھتے۔خانگى امور بھى دوپہر کے وقت پىش ہوتے تھے، اس کے بعد تھوڑى دىر سنّتِ قىلولہ ادا فرماتے، نمازِ ظہر مسجد میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۷۶ ملخصاً