کے لیے شیخ الاسلام حضرت سیدنا بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسال کے اختتام پر ایک تربیتی نشست کا اہتمام فرماتے جس میں مبلغین اور ذمہ داران حاضر ہوتے اور سال بھر کی کارکردگی پیش کرتے۔ (1)
بیابانوں اور ویرانوں میں اسلام کیسے پہنچا؟
حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی سیرت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کیسےمنظم طریقے پر دعوتِ اسلام کے لیے تربیت گاہیں قائم کیں اوراپنے مبلغین کواسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے کیسے کیسے خطرناک علاقوں، جنگلوں اور دیہاتوں میں بھیجا۔ یہ صوفیائے کرام ہی کی جاں سوز محنتوں کا نتیجہ ہے کہ بَرِّصَغیر پاک و ہند کے تاریک ترین علاقوں میں بھی اسلام کا پیغام پہنچا۔ خوفناک جنگلوں، دیہاتوں، تاریک غاروں اور پُرہَول بیابانوں میں پرچمِ اسلام لہرانے والے یہی صوفیائے کرام تھے۔ (2)
معذوروں پر توجہ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس قدر تدبر سے انتظامات فرمائے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی کسی فرد واحد کا اتنے پہلوؤں سے خدمتِ دین و فلاح ِانسانیت کا انتظام کرنا مشکل ترین دکھائی دیتا ہے۔ رہائشی جامعہ، مسافر خانہ، درویشوں کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … اللہ کے ولی، ص۴۷۰ ملخصاً
2 … اللہ کے ولی، ص۴۷۰ ملخصاً