چار یاروں کے مدنی قافلے
شیخ الاسلا م حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود تبلیغِ قرآن و سنّت کے لیے راہِ خدا میں سفر فرماتے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے شرکائے قافلہ میں اکثر اوقات حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ، حضرت سیّدنا عثمان مروندی لعل شہباز قلندر سہروردیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاورحضرت مخدوم سید جلال الدین حسین بن علی سرخ بخاری سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہوتےتھے۔ان چار بزرگوں کو طریقت کے چار یار بھی کہا جاتا ہے۔ ان حضرات نے سراندیپ، دہلی، کشمیر، صوبہ سرحد(خیبر پختون خواہ)، بلخ، بخارا، کوہِ سلیمان اور سندھ کے مختلف علاقوں سکھر، سیہون، منگھوپیر اور ان کے مضافات کی طرف سفر فرمایا اور خلقِ خدا کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا۔ (1)
کارکردگی
کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ادارے، تنظیم، فیکٹری وغیرہ کو کامیاب کرنے کے لیے ذمہ داران سے کارکردگی طلب کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ شجرِ اسلام کی آبیاری کےلیے قائم کیے گئے اس نظام کو کامیاب کرنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۱۸۹ ملخصاً