پیش کرتے۔ ان تبلیغی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کا خاطرخواہ نتیجہ برآمد ہوتا اور غیرمسلم حضرات، مبلغینِ اسلام کےحسنِ اخلاق، دینداری، خداترسی، دیانت داری اور معاملات کی صفائی دیکھ کر اسلام قبول کرلیتے۔ آج مشرقِ بعید کے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو مسلمان نظر آتے ہیں یہ ان ہی مبلغین تاجروں کی سعی ٔ مسلسل کا ثمرہ(نتیجہ) ہیں۔ (1)
اندرونِ ملک مدنی قافلے اور تربیت گاہیں
بیرونِ ملک کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کا بھی خاص اہتمام کیا گیا تھا۔ جامعہ کے اندر باقاعدہ تربیت گاہ سے تربیت یافتہ مدنی قافلے ملک بھر میں سفر کرتے۔ اسی طرح ملک بھر میں کئی مقامات پر تربیت گاہیں بنائی گئی تھیں۔ کشمیر سے راس کماری تک اور گوادر سے بنگال تک مبلغین اور واعظین کے کئی قافلے اور باقاعدہ تربیت گاہیں مصروفِ تبلیغ ِ دین تھیں۔ حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے ملک بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے اور مخلوقِ خدا کی شرعی رہنمائی کرنے کے لیے دس دس میل کے فاصلے پر تربیت گاہیں قائم کیں جن میں علمائے کرام اور مبلغینِ اسلام کو مقرر فرمایا۔ (2)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… اللہ کے ولی، ص۴۶۹
… اللہ کے ولی، ص۴۶۹