کر دیا جاتا۔ (1)
انداز ِتبلیغ
جن علما کو تخصص فی اللغۃ کے بعد دوسرے ملکوں میں بھیجا جاتا تھا حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی ان کے استاد صاحب کو پانچ ہزار اشرفیاں دے کر فرماتے کہ اس ملک کے لیے ضروری اور مفید اشیاء شہر سے خرید کر جہاز میں رکھوا دیں اور مبلغین کو وقتِ روانگی دعاؤں سے نوازتے اور فرماتے:سامان کم منافع پر فروخت کرنا، لین دین کے ہر معاملے میں اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھنا، ناقص چیزیں فروخت نہ کرنا، خریداروں سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آنا، جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہوجائےا ن کے سامنے اسلامی تعلیمات پیش نہ کرنا۔ (2)
بیرون ممالک قافلے
اس طرح یہ نوجوان مبلغین ِاسلام جہازوں پر سامانِ تجارت لاد کر مدینۃ الاولیاملتان سے روانہ ہوجاتے اور جاوا، سماٹرا، فلپائن، اور چین کے علاقوں میں پہنچ کر اپنی دکانیں کھولتے جو کہ تبلیغِ اسلام کا مرکز ہوتیں۔ مقامی غیر مسلم آبادیوں کے ساتھ اسلامی اصولوں کی روشنی میں کاروبار کرتے اور جب ان سے قربت اور اعتماد حاصل ہوجاتا تو نظریۂ وحدانیت و رسالت سے ناآشنا لوگوں کے سامنے اسلام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … اللہ کے ولی، ص۴۶۸ ملخصاً
2 … ملتان اور سلسلۂ سہروردیہ، ص۱۰۴ ملخصاً، تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۷۱ ملخصاً