تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے ہر روز ستر عالم و فاضل اِستفادہ کرتے تھے۔ (1)
انٹرنیشنل اِسلامِک یونیورسٹی کا قیام
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا جامعہ ایک انٹرنیشنل اسلامک ىونىورسٹى کى حىثىت رکھتا تھا جس مىں جملہ اسلامی علوم کى تعلىم ہوتى تھى۔ بڑے بڑے لائق و فائق علما و اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جو نہ صرف ہندوستان بلکہ بلادِ ایشیاء عراق، حجاز، شام تک سے آنے والے تشنگانِ علم کو فقہ واصولِ فقہ، حدیث و اصولِ حدىث، تفسیر و اصولِ تفسىر، صَرف ونَحَو، بلاغت، ادب و اِنشاء، فلسفہ، منطق، رىاضى اورہىئت جیسے علوم و فنون کے جام پلاتے تھے۔ جامعہ کا نظم ونسق براہِ راست خودشیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسنبھالتے تھے۔ جامعہ کے کئی ہزارطلبا اور دیگر آنے والے مریدین و معتقدین اور مسافروں کے لیے روزانہ کئی من لنگر تیار ہوتا۔ جامعہ کے طلباء کو کتب اور دیگر تعلیمی ضروریات مکمل طور پر مفت فراہم کی گئی تھیں۔ جبکہ ان کے قىام کے لىے کمرے بھی تعمیر کیے گئے۔ اس جامعہ اور دیگر فلاحی کاموں کے تمام کُلّى اور جُزوِى مَصارِف کى کفىل صرف اىک ہستى حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تھے۔ ارضِ ہند پر یوں باقاعدہ مفت تعلىمی سہولیات اور اىک عظىم الشان جامعہ کا قیام آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہی کے دور میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … نفحات الانس مترجم،ص۵۲۸