حکمت بھرا جواب:
شیخ الاسلام حضرت بہاءالدین زکریا ملتانیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہجب مدینۃ الاولیاء ملتان شریف جلوہ فرما ہوئے تو وہاں کے علماءو صوفیا نے بطور کنایہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ بھیجا ۔ مطلب یہ تھا کہ یہ شہر علماو صوفیا سے دودھ کے اس پیالے کی طرح بھرا ہوا ہے اور مزید گنجائش نہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس پیالے کے اوپر ایک گلاب کا پھول رکھ کر واپس بھیج دیا جس کا مطلب تھا کہ ہم یہاں اس گلاب کی طرح رہیں گے جو کسی پر بھاری اور تکلیف دہ نہ ہوگا ہاں البتہ خوشبو ضرور دے گا۔ اکابر ملتان آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اس ادا پرحیران رہ گئے اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے معتقد ہو گئے ۔(1)
عظیم علمی و روحانی انقلاب
شىخ الاسلام حضرت بہا ء الدىن زکرىاملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دروىشى کے ستر ہزار علوم طے کرکےان پر اپنے عمل کو حدِ کمال تک پہنچادىا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکواتنى روحانى قوت حاصل ہوچکى تھى کہ اگر آسمان کى جانب نظر اٹھاتےتو عظمتِ عظىم بے حجاب مشاہدہ کرتے اور اگر زمىن پر نظر کرتے تو تَحتَ الثَرى تک کى چىزىں دکھائى دىنے لگتىں، باىں ہمہ وہ بارہا فرماتے تھے کہ دروىشى کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… اخبار الاخیار، ص۲۷،محفلِ اولیاء،ص۲۳۵ ملخصاً