حضرت احمد غوث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے مخدوم عبدالرشید رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے خانقاہ کا نظم و نسق سنبھالااور کوٹ کروڑ سے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف منتقل ہو گئے ۔ ایک دن حضرت مخدوم عبدالرشید رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے والد ماجد حضرت احمد غوث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں دیکھاجو فرما رہے تھے: بیٹا چار دن بعد تمہارے چچازاد بھائی بہاءالدین زکریا دین و دنیا کی سعادتوں سے مالا مال ہو کر (مدینۃ الاولیاء)ملتان میں داخل ہوں گے تم ان سے اپنی ہمشیرہ کا نکاح بھی کر دینا اور مسند و خانقاہ کا سارا نظام ان کے سپر د کرکے خود حرمین شریفین روانہ ہوجانا۔ (1)
مدینۃالاولیاء ملتان آمد
حضرت بہاءالدین زکریا ملتانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب مدینۃالاولیاء ملتان شریف میں داخل ہوئے تو آپ کے چچازاد مخدوم عبدالرشید رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے شہر سے باہر آکر استقبال فرمایا۔ بعد ازا ں حکم پدری کے تمام جائیداداور مسند کے معاملات شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے کیے اور اپنی ہمشیرہ محترمہ” رشیدہ بانو “ کا نکاح آپ سے کیا اور خود حرمین شریفین روانہ ہوگئے۔ (2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۶۰
2… تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۶۲، اللہ کے ولی، ص۴۲۰ ملخصاً