Brailvi Books

فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی
16 - 71
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے بہاء الدین زکریا کو طلب فرمایا۔ شیخ شہاب الدین عمرسہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شیخ بہاء الدین کو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں پیش کیا۔نبئ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے شیخ شہاب الدین سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے فرمایا: ایک خرقہ لو اور بہاء الدین کو پہنا دو۔شیخ شہاب الدین سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حکم کی تعمیل فرمائی ۔
صبح ہوتے ہی حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہرودی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے شیخ بہاءالدین زکریارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اپنےپاس بلایا۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حاضرِخدمت ہوئے تو دیکھا کہ وہی مکان اوراسی طرح رسی پر خرقے لٹکے ہوئے ہیں جیسے رات خواب میں دیکھے تھے۔حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے وہی رات والا خرقہ رسی سے اُٹھایا اور حضرت بہاءالدین  زکریا رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے کندھے پر رکھ کر فرمایا: بہاءالدین ! یہ نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عطا کردہ خرقے ہیں،یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے حکم سے ہی دیے جاتے ہیں ۔میں تو ایک درمیانی واسطہ سے زیادہ کچھ نہیں ہوں اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دے سکتا اور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت کا  معاملہ تو تم رات دیکھ ہی چکے ہو۔(1)

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… خزینۃ الاصفیاء،۴/۳۹ ملخصاً ،محفلِ اولیاء،ص۲۳۴ملخصاً، اللہ کے خاص بندے، ص۵۴۱ ملخصاً