تحصیل ِعلمِ دین کے لئے سفر
حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے علم ِ دین کے حصول کے لئے خُراسان، عراق اور حجازِ مُقَدَّسہ کا سفر اختیار کیا اور وہاں اپنے زمانہ کے نامور علماء سے مروجہ علوم حاصل کئے۔چنانچہ
چچاجان سے اجازت ملنے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاس وقت کی عظیم علمی ریاست خراسان کی طرف رختِ سفر باندھا اور تقریباً سات سال تک علما ومشائخ کی بارگاہ سے وراثتِ انبیاء (علمِ دین) سمیٹتے رہے۔اس کے بعدبخارا کا رخ کیا اور کثیر اساتذہ کی بارگاہ میں زانوئے تَلَمُّذ طے کیا۔ وہاں سے مکہ مکرمہ آ کر حصولِ علم میں مشغول ہو گئے۔ حج بیت اللہ کے بعدمدینہ شریف میں جانِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضۂ اقدس پر حاضر ہوئے۔مسجد نبوی شریف زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَ تَعْظِیْماً میں محدِّث وقت، شیخُ الحدیث حضرت علّامہ مولانا کمال الدین یمنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی۵۳ سال سے درسِ حدیث دیا کرتے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے صفِ اوّل کے طلبا میں شامل ہوگئے اور پانچ سال تک احادیثِ کریمہ کے اَنوارِ جلیلہ سے منور ہوتے رہے اور ہر سال استاذِ محترم کے ساتھ سعادتِ حج پاتے۔ منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ۴۴۴ سے زائد اساتذہ کی بارگاہ سے علم کے موتی سمیٹے۔ درسِ حدیث کی تکمیل اور سندِ حدیث کی تحصیل کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے