سفرِمدینہ نہ کرسکے تھےجس کاآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکوبہت صدمہ تھا،اپنی حسرتوں کا اِ ظہار آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان اشعار میں بھی کیا ہے:
کاش! پھر مجھے حج کا اِذْن مل گیا ہوتا اور روتے روتے میں، کاش! چل پڑا ہوتا
مجھ کو پھر مدینے میں اس برس بھی بُلواتے آپ کا بڑا احساں مجھ پہ یہ شہا ہوتا
(وسائلِ بخشش، ص۱۷۲)
پھرجب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ12ماہ کے سفر کے دوران مرکز الاولیا(لاہور) میں تھے تویہ اِستغاثہ لکھا :
ہو مدینے کا ٹِکَٹ مجھ کو عطا داتا پِیا آپ کو خواجہ پِیا کا واسِطہ داتا پیا
دولتِ دنیا کا سائل بن کے میں آیا نہیں مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا داتا پیا
(وسائلِ بخشش، ص۵۰۶)
اورحضرت سیّدُنا داتا علی ہجویریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیکے مزار مبارک پر حاضر ہوکر پیش کردیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کچھ ہی دن بعد ایک اسلامی بھائی نے بغیر کسی مطالبے کے شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مدینۂ منوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں حاضری کا انتظام کردیا۔ (۱)
آروزو ہے موت آئے گنبد ِ خضرا تلے ہاتھ اٹھا کر کیجیے حق سے دعا داتا پیا
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … مزارات اولیاکی حکایات،ص۳۸