Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
74 - 82
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کاوصالِ پُرملال اکثر تذکرہ نگاروں کے نزدیک ۲۰صفرالمظفر ۴۶۵ھ کوہوا۔(۱) آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکامزارمنبعِ انواروتجلیات مرکزالاولیا لاہور(پاکستان)میں بھاٹی دروازے کے بیرونی حصے میں ہے،اسی مناسبت سے لاہور کو مرکز الالیااورداتا نگر بھی کہا جاتا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کے وصال کوتقریباً 900 سال کا طویل عرصہ بیت گیا آج بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مزارِ فائض الانوار میں رہ کراپنے عقیدت مندوں کی حاجت روائی فرماتے، ان کی پریشانیاں  حل فرماتے  اوراپنے روحانی فیضان سے جسے چاہتے ہیں مالامال کرتے ہیں۔ صدیوں پہلے کی طرح آج بھی آپ کا فیضان جاری ہے اور آپ کا مزارِ فائض الانوار مرجعِ خاص و عام ہےجہاں سخی وگدا،فقیر وبادشاہ، اصفیا واولیااورحالات کے ستائے ہوئے ہزاروں پریشان حال اپنے دکھوں کا مداوا کرنے صبح وشام حاضر ہوتے ہیں۔ داتا گنج بخشرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے فیضان کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جاسکتا ہےکہ سُلطان الہندحضرت سَیِّدُنا خواجہغریب نوازمعین الدین سیدحسن چشتی سنجری اجمیریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بھی ایک عرصے تک آپ کے دربار پر مقیم رہے اور منبعِ فیض سے  گوہرِمراد حاصل کرتے رہے اور جب دربار سے رخصت ہونے لگے تو اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں فرمایا :
گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا		ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را رہنما

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … سیّدِ ہجویر، ص۱۴۳