(۳)طالبِ حق پر لازم ہے کہ عمل کرتے ہوئے یہ یقین کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
میرے عمل کو دیکھ رہا ہے جیسا کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ ہماری ہر حرکت و سکون کو دیکھنے والا ہے ۔ (۱)
(۴)لباسِ اولیا کو دنیا کمانےکاذریعہ بنانے والا اپنے لیے آفت مول لیتا ہے۔ (۲)
(۵)باطل پر رضامندی بھی باطل ہے ،غصے کی حالت میں حق و صداقت کا چلا جانا بھی باطل ہے اورکامل مومن کبھی بھی باطل اختیار نہیں کرتا ۔(۳)
(۶)آگ پرقدم رکھنا تو نفس گوارا کر سکتا ہے لیکن علم پر عمل اس سے کئی گنا دشوار ہے ۔ (۴)
(۷)جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پسند فرماتا ہے عوام اسے پسند نہیں کرتے،اور جسے اپنا وجود پسند آیا اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے پسند نہیں کرتا ۔ (۵)
(۸)برے لوگوں کی صحبت میں رہنے والا شرارت ِ نفس کا شکار بن جاتا ہے،اگر بندے میں بھلائی اور نیکی ہو تو نیکوں کی صحبت میں رہنا پسند کرے گا۔ (۶)
(۹)عمل کی روح اخلاص ہے،جس طرح جسم روح کے بغیر محض پتھر ہے اسی طرح
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب اثبات العلم ،ص۱۳
۲ … کشف المحجوب، باب لبس المرقعات،ص۵۴
۳ … کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من اھل البیت،ص۷۸
۴ … کشف المحجوب، باب اثبات العلم ،ص۱۸
۵ … کشف المحجوب، باب الملامۃ،ص۶۰
۶ … کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من التابعین،ص۹۲