بھو ک برداشت کی ہے ان دونوں میں سے آخری شخص ثواب کا مستحق ہو گا ۔ (۱)
تحصیلِ علم ضروری کیوں؟
علم کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تحریر فرماتے ہیں: تصوف کی جڑ قوی اور شاخ میوہ دار ہے مگر اس جڑ کو علم کے چشمے سے پانی ملنا چاہیے اس لیے کہ سب بزرگا نِ تصوف اہل علم ہی ہوئے ہیں۔ (۲)
صلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
داتا علی ہجویری کے ملفوظات
حضرت سَیِّدناداتاعلی ہجویریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی تصوُّف کے اعلیٰ مرتبے پر فائز عشقِ حقیقی سے سرشار فنافیاللہ بُزرگ تھے اس لیے آپ کی گفتگو کے ہر پہلو میں رضائے الٰہی ،مسلمانوں کی خیرخواہی اور عقائد و اعمال کی اصلاح سےمتعلق مدنی پھول نظر آتے ہیں ۔ ان میں سے چند اقوال ملاحظہ فرمائیے:
(۱)انسان کو تمام علوم کا جاننا ضروری نہیں ۔ صرف اتنا علم حاصل کرنا لازمی ہے جسے شریعتِ مطہرہ نے ضروری قرار دیا ہے ۔ (۳)
(۲)طالب علم کے لیے لازم ہے باعمل بننے کے لیے علم حاصل کرے۔ (۴)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب ،ص۴
۲ … کشف المحجوب، ص۱۰
۳ … کشف المحجوب،باب اثبات العلم ،ص۱۱
۴ … کشف المحجوب،باب اثبات العلم ،ص۱۱