ہو، مال دار ہو یا پھر کوئی عُہدے دار ہو۔یا اُس کی باتوں میں لُطف آتا ہےیا وہ مَزاحِیّہ ہے۔کسی کو دوست بناتے وقت یہ نہیں سوچا جاتا کہ آخِرت کے مُعامَلات میں یہ میرے لئے کتنا مُفیدثابت ہوگا؟ جبکہ ہمارے اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام ایسے دوست بنانا پسند کرتے جوعُیُوب کی نشاندہی کریں۔
اچھی اچھی نیتوں کی ترغیب
امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف ”نیکی کی دعوت“ کے صفحہ ۹۲پرنیت کی یہ تعریف نقل فرمائی ہے : نیَّت لُغوی طورپردل کے پختہ(یعنی پکّے)اِرادے کو کہتے ہیں اور شَرعًا عبادت کے اِرادے کو نیَّت کہا جاتا ہے۔(۱)“ حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اچھی اچھی نیتوں سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :ہر کا م شروع کرنے سے قبل کچھ نہ کچھ اچھی نیتیں کرلینی چاہیے اگر کام میں کچھ خلل واقع ہو یا وہ کام بخیر و خوبی انجام تک نہ پہنچے تو اس میں انسان مَعذور ہے لیکن نیت اس کو کرنے اور انجام تک پہنچانے کی ہونی چاہیے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے : مو من کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔(۲) ایک شخص سارے دن کا بھو کا ہے مگر اس نے روزے کی نیت نہیں کی اور ایک شخص نے روزے کی نیت سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … نزھۃ القاری ، ۱ / ۲۲۴ ملتقطا
۲ … معجم کبیر ،یحیی بن قیس ،۶/۱۸۵،حدیث: ۵۹۴۲