Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
65 - 82
شیخِ طریقت،امیرِاہلسنَّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادری رَضَوی ضِیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اسلامی بھائیوں کوفرائض کے ساتھ ساتھ سُنَّتیں اپنانے اورتہجد، اِشْراق  وچاشت اوراَوّابین  وغیرہ نوافل کی عادت بنانے کی  ترغیب دلاتے رہتے ہیں ۔ کیونکہ فرض کی پابندی کےساتھ ساتھ نوافل کے بھی بے شُمارفضائل ہیں حدیثِ پاک میں آتاہےکہ نوافل کے ذریعے بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مَحبوب ومُقرَّب بن جاتاہے ۔ چنانچہسیِّدُ المبلغین،رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے : میرے کسی بندے نے میرے فرض کردہ اَحْکام کی بجاآوری سے زیادہ مَحبوب شے سے میرا قُرب حاصل نہیں کیا اور میرا بندہ نَوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے مَحَبَّت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے مَحَبَّت کرنے لگتا ہوں تو مَیں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سُنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضَرور عطا فرماتا ہوں اوراگرکسی چیز سے میری پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ عطا فرماتا ہوں۔(۱)
مُفَسِّرِ شہیر، حکیمُ الْاُمَّت، مُفْتی احمد یارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث ِ پاک کے تحت  فرماتے ہیں:اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ وَلی میں حُلُول

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … بخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع،۴/۲۴۸،حدیث:۶۵۰۲