Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
64 - 82
بھائی ، بیوی بچوں یا قرابت داروں کی بےجا خواہشات پوری کرنےاور ان کے طَعْنوں سے بچنے  کے لئےحرام وحلال کی پروا کئے بغیر مال و دولت جمع کرتے رہے اور علمِ دین سیکھ کر سنّتوں کے مُطابق ان کی تربیت نہ کی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل بروزِ قیامت یہی بیوی بچے ہمارے خلاف بارگاہِ الٰہی میں مُقدّمہ کرکے ہماری پکڑکا باعث بن جائیں ۔ اسی طرح دوسری نشانی کہ دین پر صبر کرنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہوگا ۔ حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’ جیسے ہاتھ میں انگارہ  رکھنا بہت ہی بڑے صابر کا کام ہے یوں ہی اس وقت مخلص، کامل مسلمان بننا سخت مُشکل ہو جاوے گا۔‘‘فی زمانہ یہ علامت بھی  ہمارے معاشرے میں پائی جانے لگی ہے کہ اگرکوئی سچا مسلمان اپنے پیارے آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری سُنَّتوں پر عمل کرے،اپنے چہرے پرداڑھی شریف سجالے،یا فیشن  پرستی کو چھوڑ کر سُنَّت کے مُطابق مَدنی (اسلامی)لباس  اپنا لے تو بسا اوقات ایسے مسلمان کو مَعَاذَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  طرح طرح سے ستایاجاتا ہے، اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے،اس پر طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے ہیں ۔اگر وہ تب بھی نہ مانے تو بعض اوقات  اس بے چارے کو شدید ظُلم وسِتم کا نشانہ  بناکر خوب مارا پیٹابھی جاتا ہے ۔ ایسے افراد کوچاہیےکہ اپنے اس فعل سے توبہ کریں اور دین سے  مَحَبَّت  کا جذبہ پانے ، سُنَّتوں کی طرف رَغْبت  بڑھانے ،فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ سُنَن ونَوافل کی عادت بنانے کیلئے  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ