احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیب کی خبریں دیتے ہوئے قیامت تک ہونے والے واقعات کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیداہونے والے فتنوں سے بھی آگاہ فرمایا او ر ہمیں ان سے بچنے کی ترغیب بھی دلائی ہے ،چنانچہ حدیث شریف میں ہے : ’’ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ اس نے(مال)کہاں سے حاصل کیا حَرام سے یا حلال سے ۔‘‘(۱) اپنے دین پر صبر کرنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہو گا۔‘‘(۲) مساجد میں دُنیا کی باتیں ہوں گی، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ان سے کچھ کام نہیں۔‘‘ (۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ گفتگوسے جہاں نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاعلم غیب معلوم ہوا وہیں ہمیں قیامت کی نشانیوں میں سے بعض نشانیوں کے بارے میں بھی علم ہوا کہ قُربِِ قیامت میں لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہمارا کمایا ہوا مال حلال ہے یا حرام ،اس دُور میں دین پر قائم رہنا انتہائی دشوار ہوگا، مساجد میں دُنْیوی باتیں ہوں گی ۔اگر ہم غور کریں تو جو علاماتِ قیامت ذکر کی گئیں ہیں وہ ہمارے معاشرے میں پیداہوچکی ہیں ۔آج بد قسمتی سے لوگ حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر دَھن کمانے کی دُھن میں مگن ہیں ۔یاد رکھئے!اگر ماں باپ ، بہن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … بخاری، کتاب البیوع، باب من لم یبالی من حیث…الخ، ۲/۷، حدیث:۲۰۵۹
۲ … ترمذی، کتاب الفتن،باب ما جاء فی النھی عن سب الریاح،۴/ ۱۱۵، حدیث:۲۲۶۷
۳ … شعب الایمان، باب فی الصلوات، فصل المشی الی المساجد،۳/۸۶، حدیث:۲۹۶۲