اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے خاص عقیدت بھی رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کشف المحجوب میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کانامِ نامی اسمِ گرامی نہایت تعظیم کے ساتھ اس طرح تحریر فرمایا:’’امامِ اِما ماں و مُقتَدائےسُنِّیاں ، شرفِ فقہاء،عزّعلماء ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الخزاز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ‘‘۔(۱)
ایک خواب کا ذکر!
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی امامِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت و عقیدت کا اندازہ اس بات سےبھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’میں اىک روز سفر کرتا ہوا ملک شام مىں مُؤَذِّنِ رسول حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے روضے پر حاضر ہوا،وہاں میری آنکھ لگ گئی اور میں نے اپنے آپ کو مکہ معظمہ(زَادَ ہَا اللہُ شرفًا وَ تَعْظِیْمًا)پایا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم قبیلہ بنى شىبہ کے دروازے پر موجود ہیں اور ایک عمر رسىدہ شخص کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اُٹھائے ہوئے ہیں،مىں فرطِ محبت سے بے قرار ہو کر آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى طرف لپکا اور آپ کے مبارک قدموں کو بوسہ دىا، دل ہی دل میں اس بات پر بڑا حىران بھی تھا کہ ىہ ضعىف شخص کون ہے ؟اتنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمقوتِ باطنى اور علمِ غیب کے ذریعے مىری حیرت و استعجاب کی کیفیت جان گئے اور مجھے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب فی ذکر ائمتھم من تبع الخ ،ص۹۸