عَلَیْہکے پاس کوئی کتاب موجود نہ تھی۔(۱) لیکن ان کے مضامین آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پیشِ نظر تھے یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنےحافظہ کی بنیاد پر کتابُ اللُمَع ،اَلرِّسالَۃُ القُشَیرِیَۃ اور طَبَقاتُ الصُّوفِیَۃ وغیرہ جیسی کم و بیش ۲۲ کتب ِ تصوف کے جا بجا اقتباسات تحریر فرمائے ہیں اس کے علاوہ ۲۳۶آیات ، ۱۳۴ احادیث اور ۳۰۰ سے زائد اشعار اور بزرگان دین کے اقوال نقل فرمائے ہیں اس کے علاوہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے تجربات اور مشاہدات کو بھی ان صفحات میں محفوظ فرمادیا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ” کشف المحجوب“میں کم و بیش ایک لاکھ الفاظ ہیں جن میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نفس و شیطان کے ایسے دھوکوں کی نشاندہی فرمائی ہے جن کے ذریعے نفس و شیطان انسان کو سیدھی راہ سے ہٹا دیتے ہیں ۔ حکایات او ر نصیحت آموز کلمات کے ذریعے صبر و قناعت اور صدق واخلاص جیسے حسین اخلاق اپنانے پر ابھارا ہے۔ کتب دستیاب نہ ہونے کے باوجود اس قدر اہم ،مستند اور محققانہ تصنیف کا منظر عام پر آجانا درحقیقت حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کئی علوم پر دسترس اور حیرت انگیز قوتِ حافظہ کی واضح دلیل ہے ۔
اہلِ علم کا اعتراف
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب فی ذکر ائمتھم من تبع الخ ،ص۹۶