مرکزالاولیاء لاہور کا نائب حاکم رائے راجو دل میں اسلام کے خلاف بڑی عداوت رکھتا تھا ، مگر بظاہر مسلمانوں کے ساتھ نہایت نرمی سے پیش آتا ۔لوگوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں اس کے بارے میں کچھ عرض کی تو آپ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کی سخت دلی کو نرمی میں بدلنےکی دعا کی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولی کی دعا قبول ہوئی اور اس نے آپ کی بارگاہ میں آکر اسلام قبول کرلیا اور ساری عمر داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے عالی شان دربار کا ہوکر رہ گیا۔اپنی ساری زندگی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری۔ فیضانِ داتا اگلی نسلوں میں بھی منتقل ہوایہاں تک کہ آج تک ان کی اولاد درگاہ اور مسجد کی دیکھ بھال اور خدمت کے فرائض میں مصروف ہے ۔داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے رائے راجو کو شیخ ہندی کا خطاب عطافرمایا جو آگے چل کر نامور بزرگ ہوئے اور آج تک عزت کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں، ان کا مزار بھی درگاہ شریف میں موجود ہے۔(۱)
کا ش پھر لاہور میں نیکی کی دعوت عام ہو
فیض کا دریا بہا دو سر ورا داتا پیا
شب و روز کے معمولات
حضرت سیدنا داتا علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دن میں تدریس فرماتے اور رات میں حق کے مُتلاشی افراد کو تلقین فرماتے جس کی بدولت ہزاروں بے علم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … گنج بخش فیض عالم،ص۵۷