Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
49 - 82
دیگر مساجدکی بہ نسبت جنوب کی طرف کچھ زیادہ مائل تھی لہٰذا مرکزالاولیا لاہور میں رہنے والے اس وقت کے علماء کو اس مسجدکی سمت کے مُعاملے میں تشویش لاحِق ہوئی چنانچہ ایک روز  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے تمام  علماء کو اُس مسجد میں جمع کیا اور خود امامت کے فرائض انجام دیئے،نماز کی ادائیگی کے بعد حاضرین سے فرمایا:’’دیکھئے  کہ کعبہ شریف کس سمت میں ہے؟‘‘یہ کہنا تھا کہ مسجد و کعبہ شریف کے درمیان جتنے حجابات تھے سب کے سب اُٹھ گئے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کعبہ شریف محرابِ مسجدکے عین سامنے نظر آرہا ہے۔(۱) حضرت سیدنا داتا گنج بخش ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی اس کرامت کے تحت  صاحبِ فتاوی فیض الرسول حضرت مفتی  جلال الدین امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اس واقعہ سے معلوم ہوا  کہ داتا گنج بخشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا  خو د اپنے بارے میں بھی یہ عقید ہ تھا کہ میں علم غیب رکھتا ہوں ۔ درمیان میں ہزاروں  حجابات ہونے کے باوجود کعبۂ معظمہ کو یہیں سے دیکھ رہا ہوں اور ضر ور ت پڑنے پر دوسروں کو بھی دکھا دیتا ہوں ۔ (۲)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!		 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نائب حاکم داتا علی ہجویری کے قدموں میں 
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دور میں


ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … خزینۃ الاصفیاء مترجم،۱/ ۱۷۴، سوانح حیات حضرت علی بن عثمان،ص۵۳
۲ … بزرگوں کے عقیدے،ص۱۷۶