Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
48 - 82
ہے: ’’کیا آج آپ نے پانچوں نَمازیں مسجِد کی پہلی صف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعَت ادا فرمائیں؟ نِیز ہر بار کسی ایک کو اپنے ساتھ مسجِد لے جانے کی کوشش فرمائی؟‘‘ شیخِ طریقت، امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے اس عطا کردہ مدنی انعام سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت اور مساجد سے کس قدر محبت فرماتے ہیں۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے مذکورہ فرمان پر عمل کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے گھروں کو آباد کرنے کے لیے مَجْلِس خُدَّامُ الْمَسَاجِد بنائی جس کا کام شیخ طریقت، امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے اس خواب کی تکمیل ہے کہ ”اے کاش! ہماری مساجد آباد ہو جائیں، ان کی رونقیں پلٹ آئیں اور خالق و مخلوق کے درمیان نفس و شیطان کی وجہ سے جو دوری پیدا ہو چکی ہے وہ قُرْب میں بدل جائے۔“ مجلس ’’خُدَّامُ الْمَسَاجِد‘‘پرانی مساجد آباد کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ نئی مساجد کی تعمیر کے لیے بھی ہر وقت کوشش کرتی رہتی ہے یہی  وجہ ہے کہ  نہ صر ف پاکستا ن بلکہ دنیا بھر میں مساجد کی تعمیرات اور ان  کو آباد کرنے کا سلسلہ ہر وَقْتْ جاری رَہتا ہے۔
مسجدیں آباد ہوں اورسنتیں بھی عام   ہوں		فیض  کا دریا بہا دوسرورا  داتا      پیا
مرکزالاولیاء لاہور سے کعبہ دکھا دیا
حضرت سیّدُناداتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہمرکزالاولیاء لاہور تشریف لاتے ہی اپنی قیام گاہ کے ساتھ جو مسجدتعمیر کروائی اُس مسجدکی محراب