روشنی و زینت کرنا (۸) اس میں نمازو تلاوت قرآن کرنا(۹) اس میں دینی مدارس قائم کرنا (۱۰) وہاں داخل ہونا، وہاں اکثر جانا، آنا، رہنا (۱۱) وہاں اذان وتکبیر کہنا، امامت کرنا۔‘‘ مزید فرماتے ہیں: ’’مسجد بنانے یااسے آباد کرنے یاوہاں باجماعت نماز اداکرنے کا شو ق صحیح مومن کی علامت ہے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسے لوگوں کا خاتمہ ایمان پر ہو گا۔‘‘ (۱)
مرکزالاولیاء لاہور میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی قیام گاہ بیرون بھاٹی دروازہ کے پاس ہی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا اور نہ صرف مالی طور پر مدد فرمائی بلکہ اس کی تعمیر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خود مزدوروں کی طرح کام کیا اور بڑی مَحَبَّت اور لگن سے اس کی تعمیر میں پیش پیش رہے ۔ (۲)
مسجد بھرو تحریک
شیخِ طریقت،امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنےعطا کردہ مدنی مقصد’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔‘‘ کی تکمیل کے لئے ہر وہ کام کیا جو مخلوق کو خالقِ حقیقی سے قریب کر دے۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے انفرادی اصلاح کی کوشش کے لئے جو مَدَنی انعامات کا گلدستہ پیش کیا اس میں اچھی اچھی نیتوں کے بعد سب سے پہلے جو مَدَنی انعام ذکر کیا وہ یہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ …تفسیر نعیمی ،۱۰/۲۰۱تا ۲۰۴ملخصاً
۲ … اللہ کےخاص بندے، ص۴۶۹ ملخصاً