Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
46 - 82
سیرت، دلکش گفتگو، پرنور شخصیت اور دلوں میں اُتر جانے والے علم و حکمت سے بھرپور ملفوظات لوگوں کو کفر اور گمراہی کی دلدل سے نکال کر ہدایت کی راہ پر گامزن کرتے رہے۔
 مرکزالاولیاء لاہور میں مسجد کا سنگ بنیاد
میٹھے میٹھے ا سلامی بھائیو! مساجد کو دینِ اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ قرآن و سنّت کی تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں اور مسلمان یہاں انفرادی و اجتماعی طور پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتے ہیں۔ چنانچہ مساجد کو آباد کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللہَ۟  (پ۱۰، التوبۃ:۱۸)
  ترجمۂ کنز الایمان: اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔
 مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ’’تفسیرِ نعیمی‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’خیال رہے کہ مسجد آباد کرنے کی گیارہ صورتیں ہیں: (۱)مسجد تعمیر کرنا(۲) اس میں اضافہ کرنا(۳) اسے وسیع کرنا(۴) اس کی مرمت کرنا(۵) اس میں چٹائیاں، فرش وفروش بچھانا (۶) اس کی قلعی چونا کرنا (۷) اس میں