Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
45 - 82
سے  اکتساب ِ فیض کیابالآخراللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے فضل سے آپ کی معرفت کی تکمىل ہوئی۔
 حضرت احمدحماد سرخسی اور حضرت ابوسعید ہجویری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کو ساتھ لے کرتىن افراد کے قافلہ کى صورت مىں (مرکزُالاولیا)لاہور کى طرف چل دىئے اور ان  کٹھن راستوں سے  ہوکریہاں تشریف لائے ۔(۱) اور بیرون بھاٹی دروازہ قیام فرمایا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  کفر  وشرک کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے اس شہر کو  نورِ اسلام سے روشن فرمادیا۔یہی وجہ ہے کہ  حضرت سیدنا مجدد اَلْفِ ثانی شیخ احمد سرہندیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی وجہ سے(مرکزالاولیاء) لاہور کو پاک و ہند کے تمام شہروں کا قطب قرار دیتے ہوئے فرمایا:اس شہر کی برکت پور ے ہندمیں پھیلی ہوئی ہے ۔ (۲)سَیِّدُنا  داتا گنج بخش علی ہجویری  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کوششوں سے اسلام کا قلعہ بن گیا،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےحسنِ اخلاق،حسنِ کردار اور نرم گُفْتار سے  کئی دلوں میں آپ کی مَحَبَّت راسخ ہوگئی۔لاہور میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قیام کی مدت تقریباً تیس سال سے زائد  ہے۔(۳)  اس تمام عرصے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشب و روز نیکی کی دعوت  میں مشغول رہے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بے داغ


ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … سوانحِ عمری حضرت داتا گنج بخش،ص۵۵،سوانحِ حیات حضرت علی بن عثمان،ص۴۷،سیرت حضرت داتا گنج بخش،ص۵۷،سیدِ ہجویر،ص۱۱۸
۲ … سید ہجویر،ص۱
۳ … اللہ کے خاص بندے، ص۴۶۸