Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
43 - 82
چار ایمان افروز اقوالِ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  ملاحظہ فرمائیے:
1.	چنانچہ اپنے زمانے میں حَنابِلہ (یعنی فقہ حنبلی کے پیروکار)شیخ امام ابو علی حسن بن ابراہیم خَلّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:  مجھے جب کوئی معاملہ درپیش ہوتاہےمیں امام موسیٰ کاظم بن جعفر صادق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتاہوں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میری مشکل کو آسان کر کے مجھے میری مراد عطا فرمادیتاہے ۔ (۱)
2.	جبکہ کروڑوں شافِعِیوں کے پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امامِ شافِعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تومیں دورَکَعْت نَماز ادا کرکے امامِ اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزارِ پُر انوار پر جاکر دعا مانگتا ہوں،  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میری حاجت  جلد پوری کردیتا ہے۔(۲)  
3.	حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سلیمانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ مجھے ایک حاجت تھی اورمیں کافی تنگدست بھی تھا۔میں نے حضرت معروف کَرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی قبرِ اَنور پر حاضری دی، تین بارسورۂ اِخلاص کی تلاوت کی اوراس کا ثواب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور تمام مُسلمانوں کی اَرْواح کو پہنچایا پھر اپنی حاجت بیان کی۔ جُونہی میں وہاں سے واپس آیا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … تاریخ بغداد، مقدمۃ المصنف،باب ماذکر فی مقابر بغداد۔۔۔الخ،۱/ ۱۳۳
۲ … الخیرات الحِسان ،الفصل الخامس والثلاثون ،ص ۹۴