وفات بھی مد د طلب کی جاسکتی ہے ۔مشائخ عظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کا فرمان ہے : چار بزرگ وہ ہیں جو اسی طرح تصرف فرماتے ہیں جیسے اپنی زندگی میں تصرف فرمایا کرتے تھے (وہ وفات پانے کے بعد حیات سے ) کئی گنا زیادہ تصرف فرماتے ہیں: حضرت سیدنا مَعروف کرخی حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَااور دو ان کے علاوہ ہیں ۔ (۱)
حضرتِ علامہ علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اَوْلِیاءُاﷲ کی دونوں حالتوں(حیات وممات) میں اصلاً(کوئی ) فرق نہیں،اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں۔ (۲)
حاضریِ مزارات برکت کا سبب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان جلیل القدر ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی تصریحات سے یہ معلوم ہوا کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ،شہدائے عظام اور اولیائے ربِّ سلام رَحمَۃ ُاللّٰہُتَعَالٰی عَلَیْہم اَجمَعِین سب اپنے اپنے مزارات میں زندہ ہوتے ہیں اور تصرف بھی فرماتے ہیں۔اسی لیے صرف عوام ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے علما اور فضلا کا یہ معمول رہاہے کہ وہ اپنی مشکلات کے حل کے لیے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے مزارات پر حاضری دیا کرتے تھے۔ آئیے اس بارے میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … لمعات التنقیح ، کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،۴/۲۱۵،تحت الباب:۸
۲ … مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الصلوٰۃ، باب الجمعۃ ، فصل الثالث ،۳ /۴۵۹،تحت الحدیث:۱۳۶۶