بلکہ زائرین کی ہدایت و اِعانت (مدد)بھی فرماتے ہیں۔
حضرت سَیِّدُناامام اسماعیل حقیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: انبیاء، اولیاء اور شہداء کے اَجسام قبروں میں بھی نہ تو مُتَغَیّر ہوتے ہیں اور نہ ہی بوسیدہ ہوتے ہیں،کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے جسموں کو اس خرابی سے جو گوشت کے گلنے سڑنے سے پیدا ہوتی ہے ،محفوظ رکھا ہے۔ (۱)
مصنفِ کُتُبِ کثیرہ حضرت شیخ عبدُالحق مُحدثِ دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ہمارےزمانے میں وہ بدترین مخلوق بھی پیدا ہوچکی ہے جودار فانی سے دَارِ بَقا کی طرف کوچ کرجانے والے اَوْلِیاءُاﷲ سے اِستمداد اور اِستِعانَت کی منکر ہے وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں مگر لوگوں کو اس کا شعور نہیں،وہ (یعنی بدترین مخلوق)اولیاءِ کرام کی جانب مُتَوَجّہ رہنے والوں کو مشرک سمجھ کر بُت پرستوں جیسا قرار دیتے ہیں اور بہت سی خرافات بک دیتے ہیں ،انہیں اس کی حقیقت کا کچھ علم نہیں وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔(۲) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: حضرت سیّدنا موسیٰ کاظمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار پر حاضری قبولیت ِ دعا کے لیے بےحد مجرب ہے ۔حضرت سیّدنا امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جن سے حیات میں مدد طلب کی جاسکتی ہے ان تما م سے بعدِ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … تفسیر روح البیان،پ۱۰،التوبۃ،تحت الایۃ:۴۱، ۳/۴۳۹
۲ … لمعات التنقیح ، کتاب الجھاد،باب حکم الاسراء،۷/۴۰،تحت الحدیث :۳۹۶۷