Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
39 - 82
اس نظریے سے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  کے مزارات پر جانا بھی ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُناداتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بھی معمول تھا کہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے مزارات پر حاضری دیتے ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مزارات پر حاضری کے مُتَعلِّق اپنے کئی واقعات اپنی مشہورو معروف کتاب”کَشفُ المَحجُوب“میں درج کیے ہیں۔  چند واقعات ملاحظہ کیجیے:
٭☜چنانچہ ایک بارحضرتِ سِیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ملکِ شام میں مؤذنِ رسول، حضرتِ سَیِّدُنا   بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کےمزار پر حاضر تھے۔ وہیں آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بحالتِ خواب تاجدارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اوران کے ساتھ کروڑوں حنفیوں کے امام،حضرتِ سَیِّدُناامامِ اعظم ابوحنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زیارت کی۔(۱)  
٭☜مزید فرماتے ہیں :ایک بارمجھے ایک(دینی) مُشْکِل درپیش ہوئی،میں نے اس کے حل کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا، اس سے قبل بھی مجھ پر ایسی ہی مُشْکِل آئی تھی تو میں نے حضرتِ شیخ بایزیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار شریف پرحاضری دی تھی اور میری وہ مُشْکِل آسان ہو گئی تھی۔ اس مرتبہ بھی میں نے ارادہ کیا  کہ وہاں حاضری دوں۔اسی نیت سے تین ماہ تک مزار مبارک پر چلہ کشی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب فی ذکر ائمتھم من تبع الخ ،ص۱۰۱