پوری فرما کر تیسرے کو اِصلاح کا مَدَنی پھول عنایت فرمایا یہ بھی معلوم ہوا کہ جب بھی علماء کی بارگاہ میں حاضری ہو تو زبا ن سنبھالنی چاہیے اور جب کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولی کی بارگاہ میں حاضری ہو تو دل سنبھالنا چاہیے ۔اس بات کو ذہن نشین کرنے لیےحضرت داتا گنج ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نقل کردہ حکایت ملاحظہ کیجیے:
مرشد سے بداعتقادی کے سبب چہرہ سیاہ ہوگیا
حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کا ایک مرید کچھ بد اعتقاد ہو گیا اور سمجھا کہ اسے بھی مَقامِ معرِفت حاصل ہوگیا ہے اب اسے مرشِد کی ضَرورت نہیں رہی۔ لہٰذا وہ خاموشی سے حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کی بارگاہ سے منہ موڑ کر چلا گیا۔ پھر ایک دن یہ دیکھنے اور آزمانے آیا کہ کیا حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیاس کے دل کے خیالات سے آگاہ ہیں یا نہیں؟ ادھر حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِینے بھی نورِ فراست سے اس کی حالت ملاحظہ فرما لی۔ چنانچہ جب وہ مرید آیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک سوال پوچھاجس كا یہ جواب ارشاد فرمایا:” کیسا جواب چاہتا ہے،لفظوں میں یا معنوں میں؟ بولا: دونوں طرح۔ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر لفظوں میں جواب چاہتا ہے تو سن! اگر مجھے آزمانے سے پہلے خود کو آزما اور پرکھ لیتا تو تجھے مجھے آزمانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ ہی تو یہاں مجھے آزمانے آتا۔ معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کیا۔ “یہ فرمانا تھا کہ اس مرید کا چہرہ سیاہ ہو