Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
36 - 82
419 پر تحریر فرماتے ہیں:حضرت داتا گنجِ بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہم تین اَحباب حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابنِ مَعلارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زِیارت کے لئے ”رملہ“نامی گاؤں کی طرف چلے۔ راستہ میں یہ طے کیا کہ ہم میں سے ہر شخص کوئی نہ کوئی مُراد اپنے دل میں رکھ لے۔ میں نے یہ مُراد رکھی ، مجھے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابنِ مَعلا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے حُسین بن منصور حَلّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مُناجات اور اَشعار دَرکا ر ہیں۔ دُوسرے نے یہ مُرادطے کی کہ مجھے تلّی کی بیماری سے شِفا حاصِل ہو جائے۔ تیسرے نے کہا: مجھے حلوہ صابُونی کھانے کی خواہِش ہے۔ جب ہم لوگ حاضِرِ خدمت ہوئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرتِ سیِّدنا حُسین بن منصور حَلّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اَشعار اور مُناجات لکھوا کر میرے لئے تیّار رکھے تھے جو مجھے عطا فرما دیئے۔ دوسرے دَرویش کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اُس کی تِلّی کی تکلیف دُور ہوگئی ۔ تیسرے سے فرمایا: صابُونی حلوہ شاہی درباروں کی غذا ہے مگر آپ نے لباسِ صُوفیا پہن رکھا ہے! دو میں سے ایک چیز اختیار کیجئے۔ (۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے اولیاءُاللہ لوگوں کے دلوں کے اَحوال جان لیتے ہیں، جبھی تو حضرتِ سیِّدُنا شَیخ ابنِ عَلا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بِغیر پوچھے حُضُور داتا گنج بَخش حضرتِ سیِّدُنا علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاوران کے اَحباب کی دِلی مُراد یں بیان کر دیں اور دو کی مُراد یں

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب آدابھم فی الصحبۃ فی الاقامۃ ،ص ۳۸۴